کر دیا زار غم عشق نے ایسا مجھ کو

کر دیا زار غم عشق نے ایسا مجھ کو

موت آئی بھی تو بستر پہ نہ پایا مجھ کو

 

کبھی جنگل کبھی بستی میں پھرایا مجھ کو

آہ کیا کیا نہ کیا عشق نے رسوا مجھ کو

 

دشمن جاں ہوا در پردہ مرا جذبۂ عشق

منہ چھپانے لگے وہ جان کے شیدا مجھ کو

 

روز روشن ہو نہ کیوں کر مری آنکھوں میں سیاہ

ہے ترے گیسوئے شب رنگ کا سودا مجھ کو

 

روز و شب شوخ نے کیا کیا نہ دکھائے نیرنگ

رخ دکھایا کبھی گیسوئے چلیپا مجھ کو

 

دن بھلے آئے تو اعدا سبب خیر ہوئے

بد دعا نے کیا اغیار کی اچھا مجھ کو

 

فخر سے بزم بتاں میں وہ کہا کرتے ہیں

پیار کچھ روز سے اب کرتے ہیں رعناؔ مجھ کو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ