اردوئے معلیٰ

Search

کر دیا زار غم عشق نے ایسا مجھ کو

موت آئی بھی تو بستر پہ نہ پایا مجھ کو

 

کبھی جنگل کبھی بستی میں پھرایا مجھ کو

آہ کیا کیا نہ کیا عشق نے رسوا مجھ کو

 

دشمن جاں ہوا در پردہ مرا جذبۂ عشق

منہ چھپانے لگے وہ جان کے شیدا مجھ کو

 

روز روشن ہو نہ کیوں کر مری آنکھوں میں سیاہ

ہے ترے گیسوئے شب رنگ کا سودا مجھ کو

 

روز و شب شوخ نے کیا کیا نہ دکھائے نیرنگ

رخ دکھایا کبھی گیسوئے چلیپا مجھ کو

 

دن بھلے آئے تو اعدا سبب خیر ہوئے

بد دعا نے کیا اغیار کی اچھا مجھ کو

 

فخر سے بزم بتاں میں وہ کہا کرتے ہیں

پیار کچھ روز سے اب کرتے ہیں رعناؔ مجھ کو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ