اردوئے معلیٰ

کر کے رب کی بندگی خاموش رہ

ہے اسی میں ہر خوشی خاموش رہ

 

پہلے ہی یہ جانتے ہیں دل کی بات

ہے یہ دربار نبی خاموش رہ

 

مست ہوکر یاد میں ان کی ابھی

کر رہا ہوں شاعری خاموش رہ

 

کلمہءِ حق مشت میں سرکار کا

پڑھ رہی ہے کنکری خاموش رہ

 

کہہ رہا ہے ان کو تو اپنی طر ح

توبہ توبہ لعنتی خاموش رہ

 

دے رہا ہے ہوں واسطہ شبیر کا

اے فقیری تو مری خاموش رہ

 

مل رہی ہے زیست میں شہ کی ضیا

اے دئیے کی روشنی خاموش رہ

 

بہہ رہے ہیں آنسو ان کی یاد میں

اے خوشی میری ابھی خاموش رہ

 

مصطفی صلِ علی ہرگام پر

پڑھ رہا ہے نوری ابھی خاموش رہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات