کر کے رب کی بندگی خاموش رہ

کر کے رب کی بندگی خاموش رہ

ہے اسی میں ہر خوشی خاموش رہ

 

پہلے ہی یہ جانتے ہیں دل کی بات

ہے یہ دربار نبی خاموش رہ

 

مست ہوکر یاد میں ان کی ابھی

کر رہا ہوں شاعری خاموش رہ

 

کلمہءِ حق مشت میں سرکار کا

پڑھ رہی ہے کنکری خاموش رہ

 

کہہ رہا ہے ان کو تو اپنی طر ح

توبہ توبہ لعنتی خاموش رہ

 

دے رہا ہے ہوں واسطہ شبیر کا

اے فقیری تو مری خاموش رہ

 

مل رہی ہے زیست میں شہ کی ضیا

اے دئیے کی روشنی خاموش رہ

 

بہہ رہے ہیں آنسو ان کی یاد میں

اے خوشی میری ابھی خاموش رہ

 

مصطفی صلِ علی ہرگام پر

پڑھ رہا ہے نوری ابھی خاموش رہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حشر میں مجھ کو بس اتنا آسرا درکار ہے
شکستہ حال اپنے دل کو سمجھانے کہاں جاتے
رخ پہ رحمت کا جھومر سجائے کملی والے کی محفل سجی ہے
طیبہ کی اُس ریت پہ پھولوں کے مسکن قربان
حقیقتِ مصطفی کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے
قلم خوشبو کا ہو اور اس سے دل پر روشنی لکھوں
وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے
میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں​
گل شاہ بحر و بر کا اک ادنیٰ غلام ہے
نہیں ہے ارض وسما میں کوئی شریک خدا

اشتہارات