اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

کسی بھی دشت کسی بھی نگر چلا جاتا

 

کسی بھی دشت کسی بھی نگر چلا جاتا

میں اپنے ساتھ ہی رہتا جدھر چلا جاتا

 

وہ جس مُنڈیر پہ چھوڑ آیا اپنی آنکھیں ، میں

چراغ ہوتا تو لو بھول کر چلا جاتا

 

اگر میں کھڑکیاں دروازے بند کر لیتا

تو گھر کا بھید سرِ رہ گزر چلا جاتا

 

مِرا مکاں مِری غفلت سے بچ گیا ورنہ

کوئی چرا کے مرے بام و در چلا جاتا

 

تھکن بہت تھی مگر سایۂ شجر میں جمال

میں بیٹھتا تو مِرا ہم سفر چلا جاتا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہ جو مجھ پر نکھار ہے سائیں
ھجر میں ھے یہی تسکین مُجھے
وہ روٹھی روٹھی یہ کہہ رہی تھی قریب آؤ مجھے مناؤ
پڑھا گیا مرا روزِ جزا جو نامہِ عشق
تحریر سنبھالوں ، تری تصویر سنبھالوں
پھول کھلا روِش روِش ، نُور کا اہتمام کر
خُدا نے تول کے گوندھے ہیں ذائقے تم میں
اچھا ہوا بسیط خلاؤں میں کھو گئے
تم نے یہ سوچنا بھی گوارا نہیں کیا؟
چکھنی پڑی ہے خاک ہی آخر جبین کو