اردوئے معلیٰ

کسی بھی عشق کو ہم حرزِ جاں بنا نہ سکے

انا کا بوجھ تھا اتنا کہ کچھ اٹھا نہ سکے

 

فصیلیں ساری گرا دیں جو درمیان میں تھیں

دلوں کے بیچ کی دیوار ہی گرا نہ سکے

 

ہزار حرفِ خوش آہنگ تھے بہم لیکن

مزاجِ کلک کی تلخی کبھی چھپا نہ سکے

 

سبھی کے غم کئے تصویر ہم نے شعروں میں

کسی کے غم کا مداوا مگر بتا نہ سکے

 

سبھی کو آئنہ توفیق بھر دیا ہم نے

خود اپنے عکس پہ نظریں کبھی جما نہ سکے

 

دلوں کا حال خدا جانتا ہے خوب ظہیرؔ

خدا گواہ کہ تم ہی کبھی نبھا نہ سکے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات