اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

کسی رہگزر کا غبار تھا جو اُڑا دیا

کسی رہگزر کا غبار تھا جو اُڑا دیا

یا سجا دیا کسی بے حسی کی دکان پر

 

ترا درد مجھ سے خفا نہ ہو کے گزر پڑے

ترا نام لینے کا حوصلہ نہیں ہو رہا

 

جو شکار کرنے کو آگئے وہ اُجڑ گئے

کہ کسی نے تیر چلا دیا ہے کمان پر

 

وہ جو کر رہا ہے مری حیات کے فیصلے

وہی شخص، شخص رہا، خدا نہیں ہو رہا

 

کوئی حرف ٹھیک سے پھر ادا نہیں ہو سکا

ترا نام ایسے اٹک گیا ہے زبان پر

 

ابھی گم ہوں اپنی اداسیوں کے حصار میں

ترا سلسلہ ابھی جا بجا نہیں ہو رہا

 

مرے خواب بھی کسی اور راہ پہ چل پڑے

مجھے اک خیال پہ سوچنے بھی نہیں دیا

 

ترا درد بھی مری ذات سے نہ نکل سکا

مرا ضبط مجھ سے ابھی خفا نہیں ہو رہا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تُو اگر وقت بن کے مل جاتا
مجھے پائمال تو کر کبھی
مجھے بکھرے بکھرے سے بال یوں بھی پسند ہیں
درد سوغات تھی اداسی کی
ہجر کا سوز کیا وصال کا دُکھ
آؤ ماتم کریں اُداسی کا
درد بھی اِس اَدا سے ہوتا ہے
سرد ہوائیں بول رہی ہیں، بالکل اُس کے لہجے میں
میرا احساس کانپ اُٹھا ہے
اک اثر جو مری زبان میں ہے