اردوئے معلیٰ

کسی سے کیا کروں فریاد و نالہ یا رسول اللہ

کہ میرا ضبط ہے سب سے نرالا یا رسول اللہ

 

مَیں اپنے شہر کے خونیں مناظر کس طرح دیکھوں

بُنا ہے آنکھ پر مکڑی نے جالا یا رسول اللہ

 

مُنافق رُوبرو تھے، سامنے سے جنگ کیا ہوتی

کسی نے پُشت پر مارا ہے بھالا یا رسول اللہ

 

سدا تکلیف میں گریہ کناں پھرتا رہا ہُوں مَیں

کبھی کانٹا نہ ایڑی سے نکالا یا رسول اللہ

 

مَیں خارج اور باطن دونوں جانب سے مقفّل ہُوں

لگا ہے مُجھ پہ خود میرا ہی تالا یا رسول اللہ

 

عطا ہو جائے بس دو گھونٹ پانی تیرے کوزے سے

تری روٹی سے مل جائے نوالہ یا رسول اللہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات