اردوئے معلیٰ

کسی کو روک لیں ہم، ایسے کم نگاہ نہیں

کسی کو روک لیں ہم، ایسے کم نگاہ نہیں

مسافرانِ محبت ہیں سنگِ راہ نہیں

 

ق

 

ستم تو یہ ہے کہ دنیا تمہارے زیرِ ستم

تمہارے ظلم کا پھر بھی کوئی گواہ نہیں

 

کھلا ہے کون سا رستہ سپاہِ جبر سے آج

بچا ہے کون سا قریہ جو رزم گاہ نہیں؟

 

متاع ہستی کہاں رکھئے اب بجز مقتل

کسی طرف بھی کوئی گوشۂ پناہ نہیں

 

حلیف بیچ گئے مجھ کو اپنی جاں کے عوض

مرے بچاؤ کی باقی کوئی بھی راہ نہیں

 

کھلے ہیں چند شگوفے مثالِ دستِ دعا

یہ دشتِ بے ثمر اتنا بھی بے گیاہ نہیں

 

غبارِ کشتۂ مظلوم عرش چھُو لے گا

نصیبِ فرش نہ ہو گا، یہ گردِ راہ نہیں

 

اگر ظہیرؔ ہو شانے پر اپنے دستِ حبیب

عدو سے ہاتھ ملانا کوئی گناہ نہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ