کسی کی ہے یہ تمنا نصیب میں اس کے

کسی کی ہے یہ تمنا نصیب میں اس کے

طواف روضہ خیر الانام ہو جائے

 

کسی کا شوق کہ جی بھر کے چوم لے جالی

قبول اس کا درود و سلام ہو جائے

 

کسی کا دل ہے کہ اس طور خواب میں آئیں

کہ اس کا نیند سے اٹھنا حرام ہو جائے

 

کسی کی ہے یہ دعا بیدم و رضا کی طرح

جہان نعت میں حاصل مقام ہو جائے

 

کنار چشمہ کوثر پیئے شراب طہور

سہیم شرت دارالسلام ہو جائے

 

کسی کی ہے یہ طلب وہ لب شکر خارا

برنگ تلخ سہی ہم کلام ہو جائے

 

کوئی خودی کا پیمبر یہ چاہتا ہے کہ بس

ترے حضور میں اپنا ہی نام ہو جائے

 

یہ آرزو ہے کسی کی کہ روبرو ان کے

مثال شمع پگھل کر تمام ہو جائے

 

مری دعا ہے کہ ہر فرد پر ہو رحمت خاص

ہر ایک شخص پہ فیضان عام ہو جائے

 

غبارِ راہِ مدینہ، لباس ہو میرا

نیاز و نذر کا اظہار تام ہو جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ