کسے نہیں تھی احتیاج حشر میں شفیع کی

 

کسے نہیں تھی احتیاج حشر میں شفیع کی

ہوئی نگاہِ لطف بات بن گئی جمیع کی

 

وہ ٹالتا نہیں ہے یا حبیب تیری بات کو

سماعتیں لگی ہیں تیری بات پر سمیع کی

 

فراق نے حصار میں لیا ہوا تھا روح کو

کرم ہوا عطا ہوئی مجھے گلی وقیع کی

 

یہ ملتجی کئی دنوں سے تھا برائے حاضری

سنی گئی حضور کے غلام کی، مطیع کی

 

درودِ پاک سے بنایا سائبان حشر میں

لحد حبیبِ کبریا کے ذکر سے وسیع کی

 

خدا نے رفعتوں کی حد کہاں بتائی ہے ہمیں

خدا ہی جانتا ہے بس بلندیاں رفیع کی

 

اگر نہ موت ہو نصیب مجھ کو شہرِ نور میں

تو خاک ڈال دیجئے گا قبر میں بقیع کی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

اشتہارات