اردوئے معلیٰ

Search

کس خرابے میں یہ انسان چلے آتے ہیں

زندگی کرنے کو نادان چلے آتے ہیں

 

تم مجھے رہ سے ہٹاؤ گے تو پچھتاؤ گے

میرے سائے میں تو طوفان چلے آتے ہیں

 

جس طرف جلوہ نما ہوتا ہے وہ، سارے لوگ

آئنے تھام کے حیران چلے آتے ہیں

 

دردو غم اب مجھے تنہا نہیں ہونے دیتے

تیرے جاتے ہی یہ مہمان چلے آتے ہیں

 

ہنس رہا ہوں کہ مرا نقش قدم ڈھونڈتے لوگ

اپنے انجام سے انجان چلے آتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ