اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

کس زباں سے میں کروں حمد خدائے قیوم

کس زباں سے میں کروں حمد خدائے قیوم

کام دیتی ہے یہاں پر نہ فراست، نہ علوم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بتا رہی ہیں ضیائیں یہاں سے گزرے ہیں
لب پر نعتِ پاک کا نغمہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
مرے دِل میں حضورؐ رہتے ہیں
ہم پہ نظرِ کرم حبیبِ خداؐ
یہی ہے عشق و مستی کا قرینہ
وہ محبوبِ خدا ہیں، با خدا ہیں
ہے عشق اُن کا فزوں تر کیف و مستی رنگ لائی ہے
محبت جس کے دل میں موجزن ہے
’’چاند شق ہو پیڑ بولیں جانور سجدہ کریں ‘‘
’’ہے تم سے عالم پُر ضیا ماہِ عجم مہرِ عرب‘‘