اردوئے معلیٰ

کس طور اُن سے آج ملاقات ہم کریں

گریہ کریں کہ شکوۂ حالات ہم کریں

 

کچھ دیر کو سہی، پہ ملے درد سے نجات

کچھ دیر کو تو دل کی مدارات ہم کریں

 

مانا کہ اُن کی بزم میں ہے اذنِ گفتگو

اتنا بھی اب نہیں کہ سوالات ہم کریں

 

جب تک ہیں درمیان روایات اور اصول

دشمن سے کیسے ختم تضادات ہم کریں

 

وقتِ عمل ہے دوستو! اب کیسا انتظار

آتے رہیں گے لوگ شروعات ہم کریں

 

سجدے میں سر جھکے ہیں مگر دل میں وسوسہ

الحمد ہم کہیں کہ مُناجات ہم کریں

 

شکوے سبھی لبوں پہ زمانے کے ہیں ظہیرؔ

آؤ ذرا سا ذکرِ عنایات ہم کریں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات