اردوئے معلیٰ

کس قدر مصروفیت ہے

کس قدر مصروفیت ہے ، الحذر
کس قدر مصروفیت ہے ، الاماں
ساعتیں ہیں وقت کے منہ زور گھوڑے پر سوار
اُڑی جاتی ہیں غضب رفتار سے
کام دھندے اَن گنت ہیں ، مسئلے ہیں بے شمار
کوئی لمحہ بھی خیالِ یار کا لمحہ نہیں

ہو گیا ہے زندگی کی جھیل سے ٹھہراؤ گُم
وصل تو کیا ، وصل کی خواہش کی بھی فرصت نہیں
حشر ایسا ہے کہ مُٹھی بھر سکوں ملتا نہیں

روز ہی میں سوچتا ہوں
آج کے دن سب ادھورے کام نمٹا لوں گا میں
اپنی خواہش کے مطابق وقت کو ڈھالوں گا میں
خود سے پیچھے رہ گیا ہوں ، آج اپنے آپ کو جا لُوں گا میں

کل سے روزانہ گُلوں سے گفتگو ہو گی مری
سارے رُوٹھے موسموں کو چائے پر بُلواؤں گا
حلقۂ احباب یعنی سب پرندوں کو منا کر لاؤ ں گا

سب کروں گا ، خود سے وعدہ ہے مرا
!سب کروں گا لیکن اے میرے تھکے ہارے بدن
آج کے دن سب ادھورے کام نمٹانے کے بعد
آج کے دن زندگی کو وقت پر لانے کے بعد

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ