اردوئے معلیٰ

کس چیز کی کمی ہے مولا تری گلی میں

کس چیز کی کمی ہے مولا تری گلی میں

دنیا تیری گلی میں عقبیٰ تری گلی میں

 

دیوانگی پہ میری ہنستے ہیں عقل والے

رستہ تری گلی کا پوچھا تری گلی میں

 

دیوانہ کر دیا ہے دیوانہ ہو گیا ہوں

دیکھا ہے میں نے ایسا جلوہ تری گلی میں

 

موت و حیات میری دونوں ترے لیے ہیں

مرنا تری گلی میں جینا تری گلی میں

 

کس طرح پاؤں رکھیں یاں صاحبِ بصیرت

آنکھیں بچھی ہوئی ہیں ہر جَا تری گلی میں

 

سورج تجلّیوں کا ہر دم چمک رہا ہے

دیکھا نہیں کسی دن سایہ تری گلی میں

 

امجدؔ کو آج تک ہم ادنیٰ سمجھ رہے تھے

لیکن مقام اس کا پایا تری گلی میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ