کس کا جمال ناز ہے جلوہ نما یہ سو بسو

کس کا جمال ناز ہے جلوہ نما یہ سو بسو

گوشہ بگوشہ دربدر قریہ بہ قریہ کو بہ کو

 

اشک فشاں ہے کس لئے دیدہ منتظر میرا

دجلہ بہ دجلہ یم بہ یم چشمہ بہ چشمہ جو بجو

 

میری نگاہ شوق میں حسن ازل ہے بے حجاب

غنچہ بہ غنچہ گل بہ گل لالہ بہ لالہ بو بہ بو

 

جلوہ عارض نبی رشک جمال یوسفی

سینہ بہ سینہ سر بہ سر چہرہ بہ چہرہ ہو بہ ہو

 

زلف دراز مصطفی گیسوئے لیل حق نما

طرہ بہ طرہ خم بہ خم حلقہ بہ حلقہ مو بہ مو

 

یہ میرا اضطراب شوق رشک جنون قیس ہے

جذبہ بہ جذبہ دل بہ دل شیوہ بہ شیوہ خو بہ خو

 

تیرا تصور جمال میرا شریک حال ہے

نالہ بہ نالہ غم بہ غم نعرہ بہ نعرہ ہو بہ ہو

 

بزم جہاں میں یاد ہے آج بھی ہر طرف تیری

قصہ بہ قصہ لب بہ لب خطبہ بہ خطبہ رو بہ رو

 

کاش ہو ان کا سامنا عین حریم ناز میں

چہرہ بہ چہرہ رخ بہ رخ دیدہ بہ دیدہ دو بہ دو

 

عالم شوق میں رئیس کس کی مجھے تلاش ہے

خطہ بہ خطہ راہ بہ راہ جادہ بہ جادہ سو بہ سو​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جم گیا ہے مری آنکھوں میں یہ نقشہ تیرا
وہ جس سے مری آنکھ ہے بینا، ہے مدینہ
کچھ بھی نہیں تھا سیّدِ ابرار سے پہلے
آگیا تقدیر سےمیری مدینہ آ گیا
ہر علم کی تخلیق کے معیار سے پہلے
یہی درد ہے میری زندگی کہ عطائے عشقِ رسول ہے
حشر تک نعتیہ تحریر مقالے ہوں گے
بن کے خیر الوریٰ آگئے مصطفیٰ ہم گنہ گاروں کی بہتری کے لیے
بزم توحید سے تبلیغ کا نامہ آیا
چاند سورج ترے ، ہر ایک ستارہ تیرا

اشتہارات