کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے

کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے

ہر طرف پھول مہکتے ہیں، بہار آئی ہے

 

عطر افشاں جو مدینے سے ہوا آئی ہے

زُلفِ محبوب یقیناً کہیں لہرائی ہے

 

دل جو مضطر ہے مدینے کی زیارت کے لیے

آنکھ دیدارِ محمد کی تمنائی ہے

 

ان کے بیماروں میں عیسیٰ بھی نظر آتے ہیں

واہ کیا سرورِ عالم کی مسیحائی ہے

 

قابِ قوسین ہو، محرابِ حرم ہو کہ ہلال

ہر جگہ ابروئے محبوب کی زیبائی ہے

 

اس درِ فیض سے لوٹا نہیں خالی کوئی

جس نے جو مانگی مراد اس نے وہی پائی ہے

 

خود خدا کہتا ہے قرآں میں وُحیّ یُوحیّ

بات کب خود سے کوئی آپ نے فرمائی ہے

 

عرشِ اعظم کے قریں جب شہِ بطحا پہنچے

اُدنُ مِنّیِ کی بہر گام ندا آئی ہے

 

آئینہ حُسنِ دو عالم کا ہے نیر وہ نظر

جس نظر میں رُخِ محبوب کی زیبائی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
بسائیں چل کے نگاہوں میں اُس دیار کی ریت
دونوں جہاں میں حسن سراپا ہیں آپ ہی
ذات عالی صفات کے صدقے

اشتہارات