کس کے ڈر سے رنگت ہلدی ؟

کس کے ڈر سے رنگت ہلدی ؟

گھر جانے کی اتنی جلدی ؟

 

قصے گھڑ کے راز چھپایا

خاموشی نے بات اگل دی

 

ڈوب کے سورج کی کرنوں نے

شب کے منہ پر کالک مل دی

 

ڈر کے ایک چراغ بجھایا

جب تجویز ہوا نے کل دی

 

عشقا تجھ سے ہرجائی نے

اک تکلیف مجھے پل پل دی

 

تم نے اپنا چہرہ موڑا

میں بھی اپنے رستے چل دی

 

اس نے بات پہ کب آنا تھا

کومل آخر بات بدل دی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ