کعبہ جانا لاحاصل ، ناحق دِیر پرستی ہے

کعبہ جانا لاحاصل ، ناحق دِیر پرستی ہے

چشمِ بصیرت وا ہے اگر ، کعبہ دل کی بستی ہے

 

بھول بھی جاؤ جانے دو میری وفا اور اپنی جفا

تم پر کیا الزام مرے شوق کی کوتاہ دستی ہے

 

رات کی تاریکی میں جب یاد کسی کو کرتا ہوں

دل کے ظلمت خانے میں اک بجلی سی ہنستی ہے

 

اک پیری صد عیب نہیں اک پیری اور لاکھوں عیب

دیکھ سفیدی بالوں کی صبحِ پیری ہنستی ہے

 

دنیا والو مفلس کی حالت پر کیا ہنستے ہو

اس کی ہستی کچھ نہ سہی ، دنیا کی کیا ہستی ہے

 

جنسِ محبت کی قیمت اہلِ باطن سے پوچھو

اہلِ ظاہر کیا جانیں ، کیا مہنگی کیا سستی ہے

 

ایک ہی جلوے کی قیمت ہے عشرتؔ ایمانِ نورِ دل

جن داموں بھی مل جائے چیز نہایت سستی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ