کفر کے قلعے گرانے آ گئے ہیں مصطفیٰ

کفر کے قلعے گرانے آ گئے ہیں مصطفیٰ

ظلم دنیا سے مٹانے آ گئے ہیں مصطفیٰ

 

گمرہی جگ سے مٹانے آ گئے ہیں مصطفیٰ

رہ پہ گمراہوں کو لانے آ گئے ہیں مصطفیٰ

 

بغض و نفرت کو مٹانے آ گئے ہیں

پیار کے دیپک جلانے آ گئے ہیں مصطفیٰ

 

مشرکوں کو دہر سے ناپید کرنے کے لیے

دین کا ڈنکا بجانے آ گئے ہیں مصطفیٰ

 

اپنے تو اپنے ہیں غیروں کو بھی ہے امن و سکون

جب سے یہ دنیا چلانے آ گئے ہیں مصطفیٰ

 

دین احمد ہی رہے گا اب جہاں میں حشر تک

ہرکسی کو یہ بتانے آ گئے ہیں مصطفیٰ

 

ہادئ برحق امام الانبیاء بن کر یہاں

راستہ سیدھا چلانے آ گئے ہیں مصطفیٰ

 

ایک ہی معبود کی ہوگی یہاں پر بندگی

سب کو گوہر یہ بتانے آ گئے ہیں مصطفیٰ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے
قافلے سارے مدینے کو چلے جاتے ہیں
یہ دنیا سمندر ، كنارا مدینہ
مصطفےٰ آپ ہیں مرتضٰے آپ ہیں
قدرتِ حق کا شہکارِ قدرت اک نظردیکھ لوں دور ہی سے
کب چھڑایا نہیں ہم کو غم سے کب مصیبت کو ٹالا نہیں ہے
ہوش و خرد سے کام لیا ہے
دھڑک رہا ہے محمدؐ ہمارے سینے میں
سنا ہے شب میں فرشتے اُتر کے دیکھتے ہیں
مجرمِ ہیبت زدہ جب فردِ عصیاں لے چلا