کلفتِ جاں میں ترے در کی طرف دیکھتا ہوں

 

کلفتِ جاں میں ترے در کی طرف دیکھتا ہوں

مطمئن ہو کے مقدر کی طرف دیکھتا ہوں

 

جب بھی اطراف میں چھایا ہو مرے حبس کوئی

چشمِ نم سے ترے پیکر کی طرف دیکھتا ہوں

 

صحنِ مسجد میں کھڑا ہو کے عقیدت سے میں

گنبدِ خضریٰ کے منظر کی طرف دیکھتا ہوں

 

میں نے اُس ذات سے امیدِ کرم باندھی ہے

اُسؐ کی رحمت کے سمندر کی طرف دیکھتا ہوں

 

اُنؐ کی سیرت کو پڑھوں جب بھی کبھی میں اشعرؔ

ایک تبدیلی سی اندر کی طرف دیکھتا ہوں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شــیوہ عـــفو ہــو ، پیـــمانہ سالاری ہـــو
باالیقیں مروہ ، صفا پر زندگی ہے آپؐ سے
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
بُلا لو پھر ہمیں شاہِ عربؐ مدینے میں
اگر میں عہد رسالت ماب میں ہوتا
سعادت یہ خیر اُلبشرؐ دیجئے
ہر موج ہوا زلف پریشانِ محمدؐ
میں لاکھ برا ٹھہرا، یہ میری حقیقت ہے
قصہء شقِّ قمر یاد آیا​
دار و مدارِ حاضری تیری رضا سے ہے

اشتہارات