اردوئے معلیٰ

کلفتِ جاں میں ترے در کی طرف دیکھتا ہوں

 

کلفتِ جاں میں ترے در کی طرف دیکھتا ہوں

مطمئن ہو کے مقدر کی طرف دیکھتا ہوں

 

جب بھی اطراف میں چھایا ہو مرے حبس کوئی

چشمِ نم سے ترے پیکر کی طرف دیکھتا ہوں

 

صحنِ مسجد میں کھڑا ہو کے عقیدت سے میں

گنبدِ خضریٰ کے منظر کی طرف دیکھتا ہوں

 

میں نے اُس ذات سے امیدِ کرم باندھی ہے

اُس کی رحمت کے سمندر کی طرف دیکھتا ہوں

 

اُن کی سیرت کو پڑھوں جب بھی کبھی میں اشعرؔ

ایک تبدیلی سی اندر کی طرف دیکھتا ہوں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ