اردوئے معلیٰ

کلی چٹکی کھلے گل اور لی سبزہ نے انگڑائی

وہ ذاتِ قدس گلشن میں بہ طرزِ نو بہار آئی

 

جو ہے بحرِ بسیطِ حکمت و عرفان و دانائی

خوشا قسمت نبی پر میرے وہ ام الکتاب آئی

 

دلوں کو گرمی ایماں سے اس نے زندگی بخشی

عطا کی روحِ پژمردہ کو اک طُرفہ توانائی

 

دیا توحید کا نغمہ دیا آئین جینے کا

بیک محور بنی آدم کی آوارہ حیات آئی

 

مٹے آزارِ قلب و روحِ انساں اس کی حکمت سے

اسی نے جاں بلب انسانیت کی، کی مسیحائی

 

مٹایا جہل دنیا سے لٹائے علم کے موتی

خرد کو روشنی کی مرحمت، آنکھوں کو بینائی

 

سنوارا خلقِ انساں کو نکھارا آدمیت کو

بھلے اعمال سکھلائے بری ہر بات بتلائی

 

سرِ طاعت کیا خم ایک رب کے آستانے پر

درِ طاغوت کی اس نے مٹائی ناصیہ سائی

 

طلب گارانِ دنیا کو کیا گرویدۂ عقبیٰ

بدل کر دل کیا ہر اک کو عقبیٰ کا تمنائی

 

انہیں کا اے نظرؔ اب تاجِ زرینِ رسالت ہے

قیامِ حشر تک باقی مرے آقا کی آقائی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات