اردوئے معلیٰ

Search

کمالِ بخت ہے ان کی توجہات کی بات

چمک دمک ہے نگاہِ نوازشات کی بات

 

بڑی حسین و مقدس ہے ایک رات کی بات

ہوئی خدا سے تھی جب فخرِ کائنات کی بات

 

تم اپنے ذوقِ عمل میں بھرو صداقتِ عشق

نگہ بلند ہو جب وہ کریں نجات کی بات

 

فسوں سماعتِ قرطاس میں بکھرنے لگا

برائے نعت ہوئی جب قلم دوات کی بات

 

بہ فیضِ کُن تیرے جلوے کا عکس ہے بے شک

جو منظروں کی زباں پر ہے تیری نعت کی بات

 

فروغِ درسِ نبی کی تمام تابش ہے

لبوں سے ہٹتی نہیں جو لبِ فرات کی بات

 

تمام عزتیں ہیں آپ کی عطا ورنہ

نہ میری ذات کی وقعت نہ میری بات کی بات

 

جو باغِ دینِِ محمد سے موج اٹھتی ہے

اسی سے بنتی ہے خوشبوئے شش جہات کی بات

 

دکھائی دیتے ہیں ماہ و حجر مطیع اب بھی

سنائی دیتی ہے جب ان کے معجزات کی بات

 

وہ رہنما ہیں تو کچھ خوفِ رائیگانی نہیں

جُڑی ہوئی ہے یقیں سے توقعات کی بات

 

مدینے جا کے وہ سب بے نیازِ غم ہوئے ہیں

جو کرتے رہتے تھے ہر وقت مشکلات کی بات

 

وجود ہو نہ مخل جلوہ گاہِ اطہر میں

کہاں، یہ لے کے چلی ہے تصورات کی بات

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ