کمالِ جستجو تُو ہے، جمالِ آرزو تُو ہے

کمالِ جستجو تُو ہے، جمالِ آرزو تُو ہے

گماں سے ماورا ہو کے، یقیں کے روبرو تُو ہے

 

تری مدحت ہی رکھتی ہے حصارِ یاس سے باہَر

مرے احساس کا تو معنیٔ لاَ تَقْنَطُوا تُو ہے

 

بہ موجِ تلخ خنداں ہُوں، بہ اوجِ کرب فرحاں ہُوں

بہ ہر سُو خیر ہے آقا کہ میرا خیر جُو تُو ہے

 

بہار آسا تری مدحت، ضیا پرور تری باتیں

طراوت زاد لمحوں میں خیالِ مُشکبُو تُو ہے

 

جو سانسوں میں مہکتا ہے، وہ تیرا اسمِ جاں پرور

رگِ جاں میں جو بہتی ہے وہ نازِ آبجُو تُو ہے

 

مرے خوابوں کو زندہ رکھ، مری راتوں کو طلعت دے

پسِ تدبیرِ طلعت بھی تو میرا ماہ رُو تُو ہے

 

بہ فیضِ اِسم قائم ہیں جہانِ اخضر و احمر

چمن آثار منظر تُو، گُلوں میں رنگ و بُو تُو ہے

 

تری نسبت نے بخشی ہے دُعا میں لذتِ پیہم

فصیلِ حرفِ مدحت پر فروزاں چار سُو تُو ہے

 

دِکھا دے گنبدِ خضریٰ، عطا مقصودِؔ ہستی کر

مرے بے کیف لمحوں میں تمنائے نمو تُو ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے
قافلے سارے مدینے کو چلے جاتے ہیں
یہ دنیا سمندر ، كنارا مدینہ
مصطفےٰ آپ ہیں مرتضٰے آپ ہیں
قدرتِ حق کا شہکارِ قدرت اک نظردیکھ لوں دور ہی سے
کب چھڑایا نہیں ہم کو غم سے کب مصیبت کو ٹالا نہیں ہے
ہوش و خرد سے کام لیا ہے
دھڑک رہا ہے محمدؐ ہمارے سینے میں
سنا ہے شب میں فرشتے اُتر کے دیکھتے ہیں
مجرمِ ہیبت زدہ جب فردِ عصیاں لے چلا