کمبخت دل کو کیسی طبیعت عطا ہوئی

کمبخت دل کو کیسی طبیعت عطا ہوئی

جب جب بھی دُکھ اُٹھائے ، مُسرت عطا ہوئی

 

پھر قحط سے مرے ہوئے دفنا دیئے گئے

اور چیونٹیوں کے رزق میں برکت عطا ہوئی

 

اُس حکم میں تھی ایسی رعونت کہ پہلی بار

ہم بُزدلوں کو کُفر کی ہمت عطا ہوئی

 

میں کیوں نہ فخر اُدھڑی ہوئی کھال پر کروں

اک شعر تھا کہ جس پہ یہ خلعت عطا ہوئی

 

مے خوار یار بھی تھے وہیں ، مے فروش بھی

دوزخ میں ہم کو چھوٹی سی جنت عطا ہوئی

 

مرتی محبتوں کے سرہانے پڑھا درود

اور پہلے وِرد سے ہی سہولت عطا ہوئی

 

پتھر تھا ، صدیوں رگڑا گیا ، آئینہ بنا

تب جا کے مجھ کو تیری شباہت عطا ہوئی

 

انعام عشق کا تو بہت بعد میں ملا

پہلے تو مجھ کو عشق کی حسرت عطا ہوئی

 

مزدوری کر کے بیٹھا رہا میں کئی برس

لیکن پسینہ سوکھا ، نہ اُجرت عطا ہوئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اتنے مُختلف کیوں ھیں فیصلوں کے پیمانے ؟
کیسی شدت سے تجھے ہم نے سراہا ، آہا
کوئی دیکھتا ہے تو دیکھ لے، مجھے عید مِل
زخم ، بھر بھی جائے توکتنا فرق پڑتا ہے؟
نہ سُنی تم نے ، کوئی بات نہیں
تُجھ سے دور آتے ہوئے جانا کہ یہ سب کیا ہے
چمکتے اشکوں کی تسبیح لے کے ہاتھوں میں
زیادہ کٹھن ہے ترک ِ نظارہ کے کرب سے
شکستگی ہے مسلسل شکست سے پہلے
ملول میں بھی ہوں ، تو بھی ہے اور شاعری بھی

اشتہارات