کوئی بھیک رُوپ سرُوپ کی

کوئی بھیک رُوپ سرُوپ کی ، کوئی صدقہ حسن و جمال کا

شب و روز پھرتا ہوں در بدر میں فقیر شہر ِ وصال کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

گل و گلچیں کا گلہ بلبل خوش لہجہ نہ
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشہ ہے
باقی نقصان تو ٹھوکر میں پڑے رہتے ہیں
ایک اس پھول کے نہ ہونے سے
مکتب میں ایک عمر گزرنے کے باوجود
یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے
اس دل کے دریدہ دامن میں دیکھو تو سہی سوچو تو سہی
غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا
لوگ اچھے ہیں بہت، دل میں اتر جاتے ہیں
دل لگاؤ تو لگاؤ دل سے دل