کوئی بھیک رُوپ سُروپ کی، کوئی صدقہ حسن و جمال کا

کوئی بھیک رُوپ سُروپ کی، کوئی صدقہ حسن و جمال کا

شب و روز پھرتا ہوں دربدر، میں فقیر شہرِ وصال کا

 

کسے فکر بُود نبُود کی، کسے ہوش ہے مہ و سال کا

مری آںکھ میں ہے بسا ہوا کوئی مُعجزہ خدوخال کا

 

بڑی شُستگی سے نبھا گیا سبھی چشم و لب کے معاملے

سو کھلا کہ صرف حسیں نہ تھا، وہ ذہین بھی تھا کمال کا

 

یہاں دوستوں کا ہجوم ہے مجھے اِس سے کیا، مجھے اُس سے کیا

مجھے علم ہے کہ ترے سوا کوئی حال نہیں میرے حال کا

 

یہاں دوستوں کا ہجوم ہے مجھے اِس سے کیا، مجھے اُس سے کیا

مجھے علم ہے کہ ترے سوا کوئی حال نہیں میرے حال کا

 

میرے حرف دشتِ خیال میں کہیں چین لیتے نہ تھے مگر

وہاں آ کے رام ہوئی غزل، جہاں رم تھا میرے غزال کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اتنے مُختلف کیوں ھیں فیصلوں کے پیمانے ؟
کیسی شدت سے تجھے ہم نے سراہا ، آہا
کوئی دیکھتا ہے تو دیکھ لے، مجھے عید مِل
تم نے تو یوں بھی مجھے چھوڑ کے جانا تھا ناں؟
ڈھونڈ کر لائے تھے کل دشتِ جنوں کا راستہ
تمام اَن کہی باتوں کا ترجمہ کر کے
اس لیے بھی دُعا سلام نہیں
ایسی تخیلات میں تجریدیت گھلی
پس ِ نقوش بھی میں دیکھنے پہ قادر تھا
کارِ عبث رہی ہیں جنوں کی وکالتیں