اردوئے معلیٰ

Search

کوئی خواہش ، کبھی احقر سے جو پوچھا جائے

بس غلاموں میں ترے نام پکارا جائے

 

بحرِ عصیاں کے تلاطم میں گھرا ہوں آقا!

اب تو عاصی کو بھی ساحل پہ اتارا جائے

 

حسنِ فردا ہے یقینی بہ طفیلِ شافع

پھر بھی لازم ہے کہ امروز سنوارا جائے

 

ان کی الفت ہے جو ایمان کی بنیاد تو پھر

عشقِ احمد سے ہی ایماں کو سنوارا جائے

 

اہلِ ایمان کی شہ رگ سے بھی اقرب ہیں نبی

ہوگی فریاد رسی ، دل سے پکارا جائے

 

میں خطا کار سہی تیرا گدا ہوں آقا

اک نظر ہو تو گنہ گار بھی بخشا جائے

 

وہ ہی ہیں قاسم و مختار عطاؤں کے جلیل

کیوں نا حصہ درِ قاسم سے ہی مانگا جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ