کوئی صداء ، سوال ، طلب ، کچھ نہیں رہا

کوئی صداء ، سوال ، طلب ، کچھ نہیں رہا

اب ماسوائے جان ، بہ لب ، کچھ نہیں رہا

 

اب ہمکلام ہو ، تو ذرا احتیاط سے

لہجے میں اب لحاظ ، ادب ، کچھ نہیں رہا

 

جوڑا تھا جو وجود بدقت ، بکھر چکا

تم آج لوٹتے ہو کہ جب کچھ نہیں رہا

 

اُٹھتے ہیں اُس کے ہاتھ فقط الوداع کو اب

گویا بساطِ عشق میں اب کچھ نہیں رہا

 

تم میں ہر ایک خواب کی پیوست تھی جڑیں

جب تم نہیں رہے ہو تو سب کچھ نہیں رہا

 

شاید کہ ہار مان چکی ہیں ، محبتیں

ورنہ جنوں کے ہاتھ میں کب کچھ نہیں رہا

 

آوارگی ، مزاج بھی ٹھہری ، نصیب بھی

ویسے تو ہجرتوں کا سبب کچھ نہیں رہا

 

عریاں ہے شرمسار بدن ، دِن کی بھیڑ میں

آخر درونِ چادرِ شب ، کچھ نہیں رہا

 

اِک بار بات کی تھی عروسِ خیال نے

ناصر ، سخن کے ظرف میں تب کچھ نہیں رہا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ذرا ہیں لوگ مُختلف، ذرا سی ہے سِپاہ اور
معلوم ہے جناب کا مطلب کچھ اور ہے
عشق سے پہلے بُلاتا تھا میں تُو کر کے اُسے
کیا مرے دکھ کی دوا لکھو گے
کہیں بھڑکا ہوا شعلہ کہیں پر پھول فن میرا
کوئی مثال ہو تو کہیں بھی کہ اس طرح
میرا اظہارِ محبت اُسے ناکافی ہے
اس کی تجلیات کا مظہر بنا ہوں میں
غبارِ خوابِ یقیں روز و شب پہ طاری ہے
اُڑ گئے رنگ مگر خواب کا خاکہ اب تک

اشتہارات