اردوئے معلیٰ

کوئی صداء ، سوال ، طلب ، کچھ نہیں رہا

اب ماسوائے جان ، بہ لب ، کچھ نہیں رہا

 

اب ہمکلام ہو ، تو ذرا احتیاط سے

لہجے میں اب لحاظ ، ادب ، کچھ نہیں رہا

 

جوڑا تھا جو وجود بدقت ، بکھر چکا

تم آج لوٹتے ہو کہ جب کچھ نہیں رہا

 

اُٹھتے ہیں اُس کے ہاتھ فقط الوداع کو اب

گویا بساطِ عشق میں اب کچھ نہیں رہا

 

تم میں ہر ایک خواب کی پیوست تھی جڑیں

جب تم نہیں رہے ہو تو سب کچھ نہیں رہا

 

شاید کہ ہار مان چکی ہیں ، محبتیں

ورنہ جنوں کے ہاتھ میں کب کچھ نہیں رہا

 

آوارگی ، مزاج بھی ٹھہری ، نصیب بھی

ویسے تو ہجرتوں کا سبب کچھ نہیں رہا

 

عریاں ہے شرمسار بدن ، دِن کی بھیڑ میں

آخر درونِ چادرِ شب ، کچھ نہیں رہا

 

اِک بار بات کی تھی عروسِ خیال نے

ناصر ، سخن کے ظرف میں تب کچھ نہیں رہا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات