اردوئے معلیٰ

کوئی فخر زہد و تقویٰ، نہ غرورِ پارسائی

کوئی فخر زہد و تقویٰ، نہ غرورِ پارسائی

مجھے سب خبر ہے کیا ہے مرے نفس کی کمائی

 

مجھے جب کبھی اندھیرے ملے راہِ جستجو میں

نئی مشعل تمنا ترے نام کی جلائی

 

اسے کیوں نہ سر پہ رکھوں، یہ جزائے بندگی ہے

ترے نام سے مزیّن مرا کاسۂ گدائی

 

وہ جو ضبط سے نہ نکلا، کبھی نطق تک نہ پہنچا

اُسی حرفِ نارسا کی ہوئی عرش تک رسائی

 

ہے مرا وجود ثابت، ہے مرا شمار ممکن

مرے صفر سے ہے پہلے تری ذات کی اکائی

 

نہ جھکا سکے جو سر کو وہ عمامۂ فضیلت

سرِ بزم علم و دانش ہے کلاہِ خود نمائی

 

مرے چارہ گر سے کہہ دو یہ مرض ہے آگہی کا

نہ کرے گی کام اِس میں کوئی نیند کی دوائی

 

مری چشمِ خوش گماں تُو مری دوست ہے کہ دشمن

تو نے خواب ایسے دیکھے مجھے نیند ہی نہ آئی

 

ہیں بجھے بجھے سے دونوں، سبھی رونقوں سے خالی

مری بزمِ ترکِ الفت، ترا جشنِ بے وفائی

 

کہیں لے گئیں ہوائیں وہ محبتوں کے فانوس

شب و روز بجھ رہے ہیں مہ و سالِ آشنائی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ