کوئی ہم نفس نہیں ہے ، کوئی چارہ گر نہیں ہے

کوئی ہم نفس نہیں ہے ، کوئی چارہ گر نہیں ہے

نہیں اس طرف ہے کوئی وہ نظر جدھر نہیں ہے

 

ترا غم ، تری محبت ، ہے جبینِ دل کا مرکز

مرا ذوقِ سجدہ ریزی ابھی دربدر نہیں ہے

 

نہیں دل ہے دل وہ جس میں تری یاد ہو نہ باقی

جو اٹھے نہ تیری جانب وہ نظر نظر نہیں ہے

 

مرا حال غم سنا جب تو وہ مسکرا کے بولے

بخدا تمہارے غم کی مجھے کچھ خبر نہیں ہے

 

نہ ہٹاؤ رُخ سے پردہ ، نہ دکھاؤ اپنا جلوہ

کہ مذاقِ دیدۂ و دل ابھی معتبر نہیں ہے

 

مرے غم پہ مسکراؤ یہ تہمارا حق ہے لیکن

نہیں کچھ بھی زندگی میں غمِ دل اگر نہیں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے
جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں
اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا،ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا
یہ میرا دل ہے کہ خالی پڑا مکاں کوئی ہے؟
جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟
!بس ایک جلوے کا ہوں سوالی، جناب عالی
اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ہے
تمہارے لمس کی حدت سے تن جھلستا تھا
یہی کمال مرے سوختہ سخن کا سہی
مجھے اب مار دے یا پھر امر کر

اشتہارات