اردوئے معلیٰ

کوئی ہم نفس نہیں ہے ، کوئی چارہ گر نہیں ہے

نہیں اس طرف ہے کوئی وہ نظر جدھر نہیں ہے

 

ترا غم ، تری محبت ، ہے جبینِ دل کا مرکز

مرا ذوقِ سجدہ ریزی ابھی دربدر نہیں ہے

 

نہیں دل ہے دل وہ جس میں تری یاد ہو نہ باقی

جو اٹھے نہ تیری جانب وہ نظر نظر نہیں ہے

 

مرا حال غم سنا جب تو وہ مسکرا کے بولے

بخدا تمہارے غم کی مجھے کچھ خبر نہیں ہے

 

نہ ہٹاؤ رُخ سے پردہ ، نہ دکھاؤ اپنا جلوہ

کہ مذاقِ دیدۂ و دل ابھی معتبر نہیں ہے

 

مرے غم پہ مسکراؤ یہ تمہارا حق ہے لیکن

نہیں کچھ بھی زندگی میں غمِ دل اگر نہیں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات