کوئی ہم پایہ ، نہ ثانی ترا کونین میں ہے

کوئی ہم پایہ ، نہ ثانی ترا کونین میں ہے

تجھ سا بے سایہ نظر آیا نہ دارین میں ہے

 

عین ملتا ہے جو رب سے تو عرب بنتا ہے

اک حقیقت ہے جو پوشیدہ اسی عین میں ہے

 

سر تو بس حکم پہ جھکتا ہے سوئے بیت حرم

سجدہ دل رخِ محبوب کے قوسین میں ہے

 

عرشِ اعلیٰ کا بھی اعزاز بڑھا ہے ان سے

سلسلہ فیض کا ایسا ترے نعلین میں ہے

 

جگمگاتے ہیں اسی سے مرے باطن کے نقوش

جلوہ حسنِ ازل ایسا رچا نین میں ہے

 

گور میں آکے چلے جائیں گے کچھ پوچھے بغیر

پاسداری تری نسبت کی نکیرین میں ہے

 

عشقِ سرکار نے ہر غم سے کیا ہے آزاد

مفلسی میں بھی مری روح بڑے چین میں ہے

 

جس کے انوار سے ہے قطب زمانہ روشن

ہے وہی نور جو سبطین کریمین میں ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رافت وعالم کی چادر ہیں رسولِ عربی
چھیڑوں جو ذکر شاہِ زماں جھوم جھوم کر
اب بار گناہوں کا اٹھایا نہیں جاتا
سرکار کڑی دھوپ میں ہم لوگ کھڑے ہیں
اپنی قسمت میں بس خیال کا حظ
انسان ہیں وہ بھی،مگر اُن کاٹھکانہ شش جہات
کھلاؤں مسکیں کو کھانا، سلامِ عام کروں
بن گئی بات ان کا کرم ہو گیا شاخ نخل تمنا ہری ہو گئی
سرکار اپنا روضۂ انور دکھایئے
یا نبی دیکھا یہ رُتبہ آپ کی نعلین کا