اردوئے معلیٰ

Search

کوئی ہم پایہ ، نہ ثانی ترا کونین میں ہے

تجھ سا بے سایہ نظر آیا نہ دارین میں ہے

 

عین ملتا ہے جو رب سے تو عرب بنتا ہے

اک حقیقت ہے جو پوشیدہ اسی عین میں ہے

 

سر تو بس حکم پہ جھکتا ہے سوئے بیت حرم

سجدہ دل رخِ محبوب کے قوسین میں ہے

 

عرشِ اعلیٰ کا بھی اعزاز بڑھا ہے ان سے

سلسلہ فیض کا ایسا ترے نعلین میں ہے

 

جگمگاتے ہیں اسی سے مرے باطن کے نقوش

جلوہ حسنِ ازل ایسا رچا نین میں ہے

 

گور میں آکے چلے جائیں گے کچھ پوچھے بغیر

پاسداری تری نسبت کی نکیرین میں ہے

 

عشقِ سرکار نے ہر غم سے کیا ہے آزاد

مفلسی میں بھی مری روح بڑے چین میں ہے

 

جس کے انوار سے ہے قطب زمانہ روشن

ہے وہی نور جو سبطین کریمین میں ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ