کوئی ہے مومن کوئی ہے ترسا خدا کی باتیں خدا ہی جانے

کوئی ہے مومن کوئی ہے ترسا خدا کی باتیں خدا ہی جانے

عجب طرح کا ہے یہ تماشہ خدا کی باتیں خدا ہی جانے

 

کوئی جو سمجھے تو کیسے سمجھے بہت بڑے ہیں غضب کے دھوکے

کہیں ہے بندہ کہیں ہے مولیٰ خدا کی باتیں خدا ہی جانے

 

کہیں انا الحق وہ آپ بولا فقیر بن کر یہ بھید کھولا

کہیں بنا ہے وہ آپ بھولا خدا کی باتیں خدا ہی جانے

 

ہر ایک شے کا وہی ہے باطن ہر ایک شے سے وہی ہے ظاہر

مگر وہ ہر شے سے ہے نرالا خدا کی باتیں خدا ہی جانے

 

کہیں بنا ہے عزیزؔ خادم کہیں جو دیکھا تو وہ صفیؔ ہے

غرض یہ فتنے کئے ہیں برپا خدا کی باتیں خدا ہی جانے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ