کوئے رشکِ ارم کا ارادہ کروں

کوئے رشکِ ارم کا ارادہ کروں

عجز کو قلب و جاں کا لبادہ کروں

 

اُن کے نامِ مبارک کی تابانیاں

رنگ منزل کروں، نُور جادہ کروں

 

میرے آقا ہیں خود قاسمِ نُورِ کُل

چاند سورج سے کیا استفادہ کروں

 

اُن کی راہوں سے ہے دل کو ایسا شغف

چاہتا ہُوں سفر پا پیادہ کروں

 

دل درِ شہ سے چمٹا، بقا پا گیا

جان بر سنگِ در ایستادہ کروں

 

اُن کو زیبِ معانی کی حاجت نہیں

پاسِ آداب حرفوں کو سادہ کروں

 

اُن کی نُورانی پاپوش مل جائے گی

پہلے احساس کو نُور زادہ کروں

 

چاہیے گر اماں کشتیٔ نُوح میں

خود کو خاکِ درِ خانوادہ کروں

 

وہ تھا مکہ جہاں سر کو کرنا تھا خم

یہ مدینہ ہے دل کو نہادہ کروں

 

اُن سے ملتا ہے مقصودؔ، جو چاہیے

چاہیے خوب دامن کُشادہ کروں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نبی کے آستاں سے ربّ ملا ہے
میں بے بس و لاچار ہوں، بیمار بہت ہوں
شکر صد شکر کہ حاصل ہے یہ نعمت آقا
آپ کی نعت ہار پھولوں کا
ابھی تو عرض نے کھینچی نہ تھی نوائے نَو
کیا عجب لطف و عنایات کا در کھُلتا ہے
طُرفہ انداز لیے اُن کے کرم کی صورت
کچھ اور ہو گا رنگِ طلب ، جالیوں کے پاس
شاہ بطحا کی اگر چشم عنایت ہوگی
ہر جگہ اہل ایمان غالب رہے

اشتہارات