کوئے نبیؐ سے لپٹے، تبسم کناں کی بات

کوئے نبیؐ سے لپٹے، تبسم کناں کی بات

ہے گیسوئے شمیم و، لَبِ دلبراں کی بات

 

جامع کلام تحفہ ملا، جس کے نطق کو

افصح عرب میں اُمّی کے، شیریں بیاں کی بات

 

فیضِ کرم کے ان کے، سلاسل ہیں بے کراں

حاکم بنے عرب کے، عمر سار باں کی بات

 

دیتا ہے خبریں، حشر و ما فی ھاکی جا بجا

اوجِ کمالِ علم پہ ہے، بر جماں کی بات

 

احسان رب نے کر دیا، احمدؐ کو بھیج کر

کون و مکاں کی بزم پہ، اس ارمغاں کی بات

 

عالم پہ چھایا عکس ہے ، اس حسنِ ناز کا

کامل ہے سایہ جس کا، اسی سائباں کی بات

 

قرآن اور حدیث میں، فارق ہے جس کی ذات

رازِ جہاں کے دائم، اسی راز داں کی بات

 

پیہم ہے فکر تنگیءِ داماں کا مجھ کو اب

جب رحمتِ بے پایاں کے، شاہِ زماں کی بات

 

ذاکر ہیں عرش و فرش، ہمہ دوش ہر گھڑی

ڈاہر ترے نصیب میں، اس جانِ جاں کی بات

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زمانہ حج کا ہے جلوہ دیا ہے شاہدِ گل کو
صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
بنے ہیں مدحت سلطان دو جہاں کیلئے
دنیا ہے ایک دشت تو گلزار آپ ہیں
خوش ہوں کہ میری خاک ہی احمد نگر کی ہے
جب سجتی ہے بندے کی دعا صلِ علیٰ سے
کر کے صبا کے ساتھ سفر دور دور تک
ثانی ترا کونین کے کشور میں نہیں ہے
یہی عرفان ہستی ہے یہی معراج انساں کی
تکتی رہتی ہیں رہِ طیبہ مسلسل آنکھیں