کوششِ مسلسل بھی رائیگاں سی لگتی ہے

کوششِ مسلسل بھی رائیگاں سی لگتی ہے

آرزوئے دل اب تو نیم جاں سی لگتی ہے

 

کچھ مشیتِ یزداں سرگراں سی لگتی ہے

یا مری طبیعت ہی بد گماں سی لگتی ہے

 

نغمہ جُو نہ ہو اے دل وقت اب نہیں ایسا

ہر گھڑی مجھے دنیا نوحہ خواں سی لگتی ہے

 

جب بھی آئے یہ ظالم ساتھ لے کے ہے جائے

موت زندگی کی کچھ رازداں سی لگتی ہے

 

فنِ سحر کہیے یا سحرِ فن ستم گر کا

جور و قہر کی صورت مہرباں سی لگتی ہے

 

عضو عضو ناکارہ عالمِ ضعیفی میں

جز نظرؔ کہ ہے بالغ نوجواں سی لگتی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جب خزاں آئے تو پتّے نہ ثَمَر بچتا ھے
لرزتے جسم کا بھونچال دیکھنے کے لیے
جہانِ فن میں دُور دُور تک برائے نام ہو
وہ میرے پاس آ کے حال جب معلوم کرتے ہیں
باجرے کی جو اک خشک روٹی ملی
عشق سے پہلے بُلاتا تھا میں تُو کر کے اُسے
کیا مرے دکھ کی دوا لکھو گے
کہیں بھڑکا ہوا شعلہ کہیں پر پھول فن میرا
نا رسائی کی تکالیف اُٹھاؤ کب تک
اُڑتے ہوئے غبار میں اجسام دیکھتے