اردوئے معلیٰ

Search

کوفیوں جیسے مومنین کے نام

یہ غزل ہے منافقین کے نام

 

ایک نعرہ خرد کی حالت میں

دن بہ دن بڑھتے جاہلین کے نام

 

خاک کے ساتھ ہو گیا ہوں خاک

اور میں کیا کروں زمین کے نام

 

اک طوائف کے جسم پر لکھے ہیں

شہر کے سارے صالحین کے نام

 

ضبط کے ضابطے گماں کے سپرد

آہیں گریہ لہو یقین کے نام

 

یا مرا نام ہی نہیں ہے کوئی

یا کوئی لے گیا ہے چھین کے نام

 

کرنے والا ہوں جلد اپنا جنوں

تیرے جیسے کسی ذہین کے نام

 

روز لکھتا ہوں پانیوں پر میں

کربلا تیرے زائرین کے نام

 

یہ مرا آخری تماشا ہے

سب کی سب داد شائقین کے نام

 

دل پہ لکھے ہوئے ہیں میں نے فقیہہ

آٹھ دس اچھے حاسدین کے نام

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ