اردوئے معلیٰ

Search

کونین میں یوں جلوہ نما کوئی نہیں ہے

اللہ کے بعد ان سے بڑا کوئی نہیں ہے

 

یوں فرش سے تا عرش گیا کوئی نہیں ہے

معراج میں اس درجہ رسا کوئی نہیں ہے

 

مانگو تو ذرا ان کے توسط سے کبھی کچھ

مقبول نہ ہو ایسی دعا کوئی نہیں ہے

 

کام آئی سر حشر محمد کی شفاعت

سب کہتے ہیں جا تیری خطا کوئی نہیں ہے

 

ہر چند نبی عیسیٰ و موسیٰ بھی ہیں لیکن

محبوب خدا ان کے سوا کوئی نہیں

 

اللہ نے سو حسن دئے نوع بشر کو

یوں نور کے سانچے میں ڈھلا کوئی نہیں ہے

 

دل ان کا ہے اس دل میں وہی جلوہ فگن ہیں

اب ان کے علاوہ بخدا کوئی نہیں ہے

 

امت میں ہوں ان کی کہ جو ہیں رحمت عالم

کیوں حشر کا ڈر ہو مرا کیا کوئی نہیں ہے

 

اس دور پہ اے ختم رسل چشم کرم ہو

رہزن ہیں بہت راہنما کوئی نہیں ہے

 

پڑھتے رہو دن رات نصیرؔ ان کا وظیفہ

ایسا عمل رد بلا کوئی نہیں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ