کُفر کی تاریک راتوں کو مٹایا آپ نے

کُفر کی تاریک راتوں کو مٹایا آپ نے

عبد کو معبود سے آ کر ملایا آپ نے

 

سنگ باروں کو عطا کی اپنی رحمت کی قبا

دشمنِ جاں کو بھی یاروں میں بٹھایا آپ نے

 

ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں کو قابلِ عزت کیا

بے نواؤں اور یتیموں سے نبھایا آپ نے

 

اسوئہ کامل دیا اک ضابطہ اخلاق کا

نسلِ آدم کو سبق دیں کا پڑھایا آپ نے

 

دستِ اقدس کے اشارے سے میرے پیارے نبی

چاند دو ٹکڑے کیا ، سورج پھرایا آپ نے

 

ہیں بڑے خوش بخت سے وہ لوگ آقائے رضاؔ

جن کو اپنے نور کا جلوہ دکھایا آپ نے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اے جسم بے قرار ثنائے رسول سے
پیشوائے انبیاء ہے آمنہ کی گود میں
مظہرِ قدرت باری صورت
نظر میں جلووں کی جھلملاہٹ پکارتی ہے
جو ضم ہو عشقِ نبی میں ،ہے بیکراں دریا
گویا بڑی عطا ہے طلبگار کےلئے
کلی کلی کی زباں پر یہ نام کس کا ہے؟
گھٹا فیضان کی امڈی ہوئی ہے
کتابِ مدحت میں شاہِ خوباں کی چاہتوں کے گلاب لکھ دوں
دل نشیں ہیں ترے خال و خد یانبی

اشتہارات