کُن سے ماقبل کے منظر کی ہے تطبیق الگ

کُن سے ماقبل کے منظر کی ہے تطبیق الگ

جوہرِ نُور ہے تُو، تیری ہے تخلیق الگ

 

خُوب ہیں حرف و معانی و لغت، بحر و عروض

نعت لکھنے کو مگر چاہیے توفیق الگ

 

کوئی امکان بھی دے مرکزِ پُرکارِ خیال

خامۂ شوق تو لے آیا ہے تشویق الگ

 

خوبیاں یوں تو ہر اک کی ہیں بیاں میں محصور

تیرے اوصاف کہ ان کی ہوئی تنسیق الگ

 

مجھ کو بھی مان تھا نسلوں کی غلامی پہ، مگر

مل گئی شافعِ محشر سے بھی توثیق الگ

 

وہ خدا کے ہیں، خدا اُن کا ہے، بس بات تمام

اس تناظر میں نہیں رکھنی ہے تفریق الگ

 

“اُنہیں جانا، انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام”

جس کو کرنی ہے وہ کرتا رہے تحقیق الگ

 

دیکھ کر فردِ عمل جاں پہ بنی تھی، لیکن

سامنے آ گئی پھر نعت کی تعلیق الگ

 

شاعر ایسے تو سلاطین نے دیکھے ہیں بہت

مگر اے جانِ سخن آپ کا منطیق، الگ

 

آپ کے بحرِ عنایت کی کہاں مثل و مثیل

اُس کی وسعت ہے جُدا،اُس کی ہے تعمیق الگ

 

بات بن جائے گی مقصود ! چلو شہرِ کرم

ہم فقیروں کی درِ شہ پہ ہے ترزیق الگ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سنا ہے شب میں فرشتے اُتر کے دیکھتے ہیں
ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا
رحمت نہ کس طرح ہو گنہگار کی طرف
حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے
مرے آقاؐ، کرم مُجھ پر خُدارا
آپؐ کے پیار کے سہارے چلوں
نبیؐ کا گُلستاں ہے اور میں ہوں
ذکرِ نبیؐ سے ہر گھڑی معمُور ہوتا ہے
آپ ہیں مصطفےٰ خاتم الانبیاء
وَالفَجر ترا چہرہ، والیل ترے گیسو

اشتہارات