اردوئے معلیٰ

Search

کُو بہ کُو ہیں احمدِ مختار کی رعنائیاں

ہیں ازل سے تا ابد سرکار کی رعنائیاں

 

دو جہاں کو حُسن کی خیرات دیتی آئی ہیں

میرے آقا کے لب و رُخسار کی رعنائیاں

 

جس دیارِ پاک میں آئیں ملائک دم بہ دم

دیکھ لوں میں بھی اُسی دربار کی رعنائیاں

 

یوں تو ہر صنفِ سُخن مرغوبِ خاطر ہے مگر

منفرد ہیں نعت کے اشعار کی رعنائیاں

 

روشنی پھیلا رہی ہیں دہر میں چاروں طرف

کوئے طیبہ کے در و دیوار کی رعنائیاں

 

اُس پہ ہوتا ہے نزولِ رحمتِ پروردگار

جس نے دیکھیں کوچۂ سرکار کی رعنائیاں

 

اِک الگ ہی بات ہے میرے نبی کے شہر کی

جس کے آگے ہیچ ہیں سنسار کی رعنائیاں

 

مرحبا صد مرحبا طیبہ نگر کا مرتبہ

اللہ اللہ گنبد و مینار کی رعنائیاں

 

اُن کا منبر اُن کا روضہ اور سنہری جالیاں

خوب ہیں خاکیؔ درِ دُربار کی رعنائیاں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ