اردوئے معلیٰ

Search

کِس کو اُن کی شان و رِفعت کا پتہ معلوم ہے

حق تعالیٰ کو نبی کا مرتبہ معلوم ہے

 

اُن پہ جُملہ عالمیں کے مُنکشِف احوال ہیں

کب کہاں کیا ہو رہا ہے ہو چُکا معلوم ہے

 

ہر کسی کے دل کی اُن پر کیفیت بھی ہے عیاں

ہو گا جس پر جس کسی کا خاتمہ معلوم ہے

 

غیب اُن پر حق تعالیٰ نے عیاں سب کر دیا

ہونے والا ان کو ہر اِک واقعہ معلوم ہے

 

کیوں کہیں یہ دیں ہمیں یا وہ عطا کر دیں حضور

سب ہمارے دل کا ان کو مُدعا معلوم ہے

 

باعثِ تخلیقِ ہر عالم اُنھیں کی ذات ہے

چاند سورج میں اُنہیں کی ہے ضیا معلوم ہے

 

جانتے ہیں عظمتِ غفار کو میرے حضور

میرے رب کو بس مقامِ مصطفیٰ معلوم ہے

 

جانتے ہیں میرے آقا کہکشاں کی وُسعتیں

ہے کہاں پر سِدرہ و عرشِ عُلیٰ معلوم ہے

 

بُوجہل اور عُتبہ و شیبہ مریں گے کس جگہ

بدر کے میدان کا ہر ماجرا معلوم ہے

 

خون کے پیاسوں کو بھی جو دے ہدایت کی دعا

جُز نبی کے کوئی ایسا رہنما معلوم ہے ؟

 

خاکِ طیبہ اے مریضو کُچھ اُٹھا لے جاؤ تم

ہم کو دردِ لا دوا کی یہ دوا معلوم ہے

 

چوم کر چلتی ہے طیبہ کے در و دیوار کو

مشکبو ہے کس لیے بادِ صبا معلوم ہے

 

عظمتِ سرکار مرزا جان و دل سے ہو عزیز

بس یہی بخشِش کا ہم کو آسرا معلوم ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ