کچھ اس لیے بھی دبے پاؤں چل رہا ہوں میں

کچھ اس لیے بھی دبے پاؤں چل رہا ہوں میں

تعلقات کی سڑکیں نئی نئی ہیں ابھی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کب درد بدلتے ھیں ! کب حال بدلتا ھے
مجھے عشق تھا' مجھے چاہ تھی' مجھے پیار تھا، مگر اب نہیں
تمام حالِ دلِ زار تُو تو جانتا ہے
تمھارے گاؤں کی پچھلی طرف پہاڑی ہے؟
شب سرائے میں پہنچ کر مجھے رخصت دے گا
فرقت کی رات وصل کی شب کا مزہ ملا
بارشیں اس کا لب و لہجہ پہن لیتی تھی
ہماری لاش پہ ڈھونڈو نہ اُنگلیوں کے نشاں
اور ہوتے ہیں جو محفل میں خاموش آتے ہیں
تری رعایا بڑی دیر سے عذاب میں ہے