اردوئے معلیٰ

کچھ اور ہو گا رنگِ طلب ، جالیوں کے پاس

کچھ اور ہو گا رنگِ طلب ، جالیوں کے پاس

روتا رہوں گا مہر بہ لب ، جالیوں کے پاس

 

لکھوں کا جب قصیدۂ حُسنِ گُلِ مراد

سوچوں گا کچھ جدید لقب ، جالیوں کے پاس

 

مل جائے گی سُخن کو سند اعتبار کی

نعتِ نبی کہوں گا میں جب جالیوں کے پاس

 

اللہ دعا قبول کرے ، اہلِ حُب و شوق

پہنچیں ترے حضور میں سب ، جالیوں کے پاس

 

دن بھر وہ جالیاں ہوں نگاہوں کے سامنے

گزرے درِ حبیب پہ شب جالیوں کے پاس

 

شاہانِ ذی وقار سراپا سوال ہیں

بُھولے ہیں اپنے نام و نسب جالیوں کے پاس

 

صد مرحبا! تصورِ طیبہ کی یہ بہار

اب اپنے غم کدے میں ہوں ، اب جالیوں کے پاس

 

یہ بارگاہِ سیدِ عالم ہے ، احتیاط

اے جذبِ شوق ، حدِ ادب ، جالیوں کے پاس

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ