کچھ اور ہو گا رنگِ طلب ، جالیوں کے پاس

کچھ اور ہو گا رنگِ طلب ، جالیوں کے پاس

روتا رہوں گا مہر بہ لب ، جالیوں کے پاس

 

لکھوں کا جب قصیدۂ حُسنِ گُلِ مراد

سوچوں گا کچھ جدید لقب ، جالیوں کے پاس

 

مل جائے گی سُخن کو سند اعتبار کی

نعتِ نبی کہوں گا میں جب جالیوں کے پاس

 

اللہ دعا قبول کرے ، اہلِ حُب و شوق

پہنچیں ترے حضور میں سب ، جالیوں کے پاس

 

دن بھر وہ جالیاں ہوں نگاہوں کے سامنے

گزرے درِ حبیب پہ شب جالیوں کے پاس

 

شاہانِ ذی وقار سراپا سوال ہیں

بُھولے ہیں اپنے نام و نسب جالیوں کے پاس

 

صد مرحبا! تصورِ طیبہ کی یہ بہار

اب اپنے غم کدے میں ہوں ، اب جالیوں کے پاس

 

یہ بارگاہِ سیدِ عالم ہے ، احتیاط

اے جذبِ شوق ، حدِ ادب ، جالیوں کے پاس

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

اشتہارات