کچھ اِس خیال سے شہ کے قریں نہیں جاتے

کچھ اِس خیال سے شہ کے قریں نہیں جاتے

ہم ایسے لوگ جھکا کر جبیں نہیں جاتے

 

ستارے آب دکھاتے نہیں ہیں سورج کو

کہ آئنے کے مقابل حسیں نہیں جاتے

 

تمام شہر میں یوں تو بھٹکتے ہیں رستے

مگر جہاں پہ ہو جانا وہیں نہیں جاتے

 

تمھاری سوچ کے پنچھی نجوم کی صورت

فلک نشین ہیں سوئے زمیں نہیں جاتے

 

تمھارا مشغلہ تھا خواب سازیاں لیکن

ہماری آنکھ سے لعل و نگیں نہیں جاتے

 

کچھ ایسا خوف ہے اب کے فضاؤں میں اشعرؔ

کہ گھونسلوں سے پرندے کہیں نہیں جاتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہ جو بادل گرج رہے ہیں جناب
اجرتِ آبلہ پائی بھی نہ دے گا سورج
مرے سینے میں اک ٹکڑا فسادی کردیا نا
سب توڑ دیں حدود ، مرا دل نہیں لگا
کسی بھی دشت کسی بھی نگر چلا جاتا
کوئی اپنی جھلک دِکھلا گیا ہے
آقا کی محبت ہی مرے پیشِ نظر ہو
بلا لے ہم کو بھی اب کے مدینے یا رسول اللہ
سوچ سفر
جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں

اشتہارات