کچھ اِس خیال سے شہ کے قریں نہیں جاتے

کچھ اِس خیال سے شہ کے قریں نہیں جاتے

ہم ایسے لوگ جھکا کر جبیں نہیں جاتے

 

ستارے آب دکھاتے نہیں ہیں سورج کو

کہ آئنے کے مقابل حسیں نہیں جاتے

 

تمام شہر میں یوں تو بھٹکتے ہیں رستے

مگر جہاں پہ ہو جانا وہیں نہیں جاتے

 

تمھاری سوچ کے پنچھی نجوم کی صورت

فلک نشین ہیں سوئے زمیں نہیں جاتے

 

تمھارا مشغلہ تھا خواب سازیاں لیکن

ہماری آنکھ سے لعل و نگیں نہیں جاتے

 

کچھ ایسا خوف ہے اب کے فضاؤں میں اشعرؔ

کہ گھونسلوں سے پرندے کہیں نہیں جاتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ