اردوئے معلیٰ

Search

کچھ ایسا کر دے مرے کردگار آنکھوں میں

ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں

 

فرشتو پوچھتے کیا ہو کہ کس کا بندہ ہوں

لو آؤ دیکھ لو تصویرِ یار آنکھوں میں

 

یہ دل تڑپ کے کہیں آنکھ میں نہ آجائے

کہ پھر رہا ہے کسی کا مزار آنکھوں میں

 

نظر میں کیسے سمائیں گے پھول جنت کے

کہ بس چکے ہیں مدینے کے خار آنکھوں میں

 

انہیں نہ دیکھا تو کس کام کی ہیں یہ آنکھیں

کہ دیکھنے کی ہے ساری بہار آنکھوں میں

 

تمہارے قدموں پہ موتی نثار ہونے کو

ہیں بے شمار مری اشکبار آنکھوں میں

 

پیا ہے جامِ محبت جو آپ نے نوریؔ

ہمیشہ اس کا رہے گا خمار آنکھوں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ