اردوئے معلیٰ

کچھ ایسے خلد کماتا ہوں نعت کہتا ہوں

گہر ثناء کے لٹاتا ہوں نعت کہتا ہوں

 

نوازے جاتے ہیں پیہم مرے کریم مجھے

کرم سمیٹتا جاتا ہوں نعت کہتا ہوں

 

میں گلستانِ تخیل سے پھول چُن چُن کر

انہیں حروف بناتا ہوں نعت کہتا ہوں

 

سبھی کو آرزو ہوتی ہے گھر سجانے کی

میں اپنی قبر سجاتا ہوں نعت کہتا ہوں

 

مرا قبیلۂ حسّاں سے جو تعلق ہے

ہمیشہ اس کو نبھاتا ہوں نعت کہتا ہوں

 

مری نجات کی خاطر یہ بات کافی ہے

نبی کی نعت سناتا ہوں نعت کہتا ہوں

 

مجازی عشق سے جب جب لڑائی ہوتی ہے

قمرؔ میں اس کو ہراتا ہوں نعت کہتا ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات