اردوئے معلیٰ

کچھ بھی نہیں تھا سیّدِ ابرار سے پہلے

کچھ بھی نہیں تھا سیّدِ ابرار سے پہلے

اللہ کے محبوبِ طرحدار سے پہلے

 

سرکار کی رحمت سے بنے شاہِ زمانہ

ڈوبے تھے جہالت میں جو سرکار سے پہلے

 

خوشبو نہ تھی گل میں نہ کوئی حسن چمن میں

بے رنگ تھی دنیا شہِ ابرار سے پہلے

 

آدم کو ملی ان کے تصدّق ہی معافی

یعنی تھے محمد سبھی ادوار سے پہلے

 

قرآں نے تو تائید کی "صاحب” انھیں کہہ کر

سرکار نے صدّیق کہا غار سے پہلے

 

آثار بتاتے ہیں کہ آتے ہیں محمّد

اور دل کہ بچھے جاتے ہیں آثار سے پہلے

 

واقف مری حاجات سے ، سب جانتے ہیں وہ

کرتے ہیں عطا وہ مجھے ، اظہار سے پہلے

 

موزوں جو کبھی ہوتی ہے نعت اُن کی اچانک

گھر سارا مہک اٹھتا ہے اشعار سے پہلے

 

سرکار کی عظمت میں جسے شک ہو , بتائے

سج دھج سے ملا کس کو خدا یار سے پہلے ؟

 

آئے گا بلاوا مجھے سرکار کا جس دن

پہنچوں گا وہاں وقت کی رفتار سے پہلے

 

ہرگز نہیں ، واللہ نہیں ، کوئی بھی دانش

اللہ کے بعد ، احمدِ مختار سے پہلے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ