اردوئے معلیٰ

کچھ بھی ہوں میں بُرا یا بھلا ہے کرم

 

کچھ بھی ہوں میں بُرا یا بھلا ہے کرم

زندگی پر مری آپ کا ہے کرم

 

وہ سراپا کرم ، وہ سراپا سخا

ظلم سہہ کر بھی جس نے کیا ہے کرم

 

یہ سرِ گنبدِ خضریٰ کیا ہے گھٹا

ہر طرف بن کے بادل تنا ہے کرم

 

مشکلوں میں ترا نام جب بھی لیا

میری بگڑی بنی ، ہوگیا ہے کرم

 

مرتضیٰؔ آپ کی برکتوں کے سبب

ثور ہے محترم اور حرا ہے کرم

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ