کچھ بھی ہوں میں بُرا یا بھلا ہے کرم

 

کچھ بھی ہوں میں بُرا یا بھلا ہے کرم

زندگی پر مری آپؐ کا ہے کرم

 

وہ سراپا کرم ، وہ سراپا سخا

ظلم سہہ کر بھی جس نے کیا ہے کرم

 

یہ سرِ گنبدِ خضریٰ کیا ہے گھٹا

ہر طرف بن کے بادل تنا ہے کرم

 

مشکلوں میں ترا نام جب بھی لیا

میری بگڑی بنی ، ہوگیا ہے کرم

 

مرتضیٰؔ آپ ﷺ کی برکتوں کے سبب

ثور ہے محترم اور حرا ہے کرم

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
نہ عرش، ایمن نہ اِنِّیْ ذَاہِبٌ میں میہمانی ہے
آنسو مری آنکھوں میں نہیں آئے ہوئے ہیں
سوزِ دل چاہیے، چشمِ نم چاہیے اور شوقِ طلب معتبر چاہیے
آنکھوں کو جسجتو ہے تو طیبہ نگر کی ہے
کیا کچھ نہیں ملتا ہے بھلا آپ کے در سے
وہ کیا جہاں ہے جہاں سب جہاں اترتے ہیں
عکس روئے مصطفی سے ایسی زیبائی ملی
تو سب سے بڑا، تو سب سے بڑا، سبحان اللہ، سبحان اللہ
درِ نبی پہ نظر، ہاتھ میں سبوۓ رسولؐ