اردوئے معلیٰ

کچھ ہوا حاصل نہ اب تک کوششِ بیکار سے

دیکھ لیں گے سر بھی ٹکرا کر در و دیوار سے

 

سیدھے سادے راستے پر کیا اٹھائیں ہم قدم

پاؤں لپٹے جا رہے ہیں راہِ ناہموار سے

 

اک ذرا سی نیند آئی تھی کہ پھر چونکا دیا

تنگ ہم تو آ گئے اپنے دلِ بیدار سے

 

ناز تھا جن کارناموں پر کبھی ہم کو بہت

جانے کیوں وہ اب نظر آتے ہیں کچھ بیکار سے

 

ہم تو جانے کے لیے تیار ہیں یوں بھی مگر

چاہتا ہے جی بلائیں وہ ہمیں اصرار سے

 

عشق کی فضلیؔ نہ جانے کون سی منزل میں ہیں

نام اپنا لے رہے ہیں اور پھر کس پیار سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات