اردوئے معلیٰ

کھلا بھید خیر الوریٰ کہتے کہتے

ہوا میں فنا مصطفیٰ کہتے کہتے

 

مرے منہ سے آنے لگی بوئے نافہ

تری زلف کو مُشک سا کہتے کہتے

 

گئے آدم و شیث و موسیٰ و عیسیٰ

تجھے خاتم النبیاء کہتے کہتے

 

شعائیں ہوئیں میری باتوں سے پیدا

ترے منہ کو شمس الضحیٰ کہتے کہتے

 

زیادہ ہوئی عقلِ کل کی بصیرت

تری شان میں ماطغا کہتے کہتے

 

کہا دل میں جب حالِ دل ان کے آگے

ہوا یہ کہ بے خود ہوا کہتے کہتے

 

عزیزؔ آرزو ہے کہ جب مرگ آئے

دم آخر ہو صلِ علیٰ کہتے کہتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات